پیدا راہ خلوص میں دشواریاں نہ کر

پیدا راہ خلوص میں دشواریاں نہ کر
چاہت نہیں تو ہم سے اداکاریاں نہ کر
لفظوں سے کھیلنے کی ضرورت نہیں تجھے
سادہ دلوں کے ساتھ یہ فنکاریاں نہ کر
جن سے نہیں لگاؤ انھیں منہ بھی مت لگا
بے وجہ ہر دکان سے خریداریاں نہ کر
تو شاخ گل ہے کوئی امر بیل تو نہیں
وابستہ ہر شجر سے وفاداریاں نہ کر
اس بھیڑ سے پرے بھی ہے آباد خلق شہر
اپنے ہی دوستوں کی طرفداریاں نہ کر
اس شغل بے جواز سے کیا فائدہ تجھے
دل مت دکھا کسی کا دل آزاریاں نہ کر
تازہ ہے دل پہ داغ اگر پہلی چوٹ کا
پھر دوسری شکست کی تیاریاں نہ کر

Comments